جانوروں کی دیکھ بھال عمران شہزاد


جانوروں سے بہتر کارگردگی حاصل کرنے کے لیے جہاں خوراک کا خیال رکھنا ضروری ہے وہاں ان کی رہائشی ضروریات کو بھی مدنظرر کھنا ضروری ہے

.
تاکہ جانوروں کو موسمی تغیر و تبدل سے محفوظ رکھا جاسکے۔ جانوروں کا معیاری رکھ رکھاﺅ اور دیکھ بھال ڈیری فارم کی معیشت پر مثبت طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جانور ایک مخصوص حد تک درجہ حرارت اور نمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان حدود میں کمی بیشی ان پر اعصابی دباﺅ پیدا کردیتی ہے جس کو زائل کرنے کے لیے وہ ا پنی توانائی بروئے کار لاتے ہیں جس سے ان کی پیداواری صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور نتیجتاً فارم کی معیشت متاثر ہوتی ہے۔
 

جانوروںکی ضروریات کے لیے رہائشی ضروریات کا انتظام کرتے وقت درج ذیل امور کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔

 
1۔ ڈیری فارم کے لیے جگہ کا انتخاب کرتے وقت ایسی جگہ منتخب کریں جو کہ پختہ سٹرک سے قریب ہو، زمین اردگرد کے مقابلے میں قدرے بلندی پر وقع ہوتا کہ پانی کے نکاس میں سہولت رہے۔ زمینی ساخت ایسی ہونی چاہیے کہ اس پر کیچڑ نہ ہو یعنی مٹی زیادہ چکنی ہو کیونکہ ایسی زمین میں بارشوں کی وجہ سے دراڑایں بن جاتی ہیں اور عمارت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
2۔ رہائش گاہ کا رخ شمالاً جنوباً ہونا چاہے ۔ ایسا کرنے سے دھوپ بہتر طور پر شیڈ میں داخل ہوسکے گی جوکہ نہ صرف فرش خشک رکھنے میں مددگار ہوگی بلکہ جراثیم مارنے میں بھی بہت موثر ثابت ہوگی جس سے جانور صحت مند رہے گا۔
3۔ حفظان صحت کے اصولوں کے پیش نظر فارم کی تعمیر ایسے علاقے میں کی جانی چاہے جہاں قریب کوئی انسانی آبادی نہ ہوتا کہ متعفن ہوا اور دیگر حشرات الارض کی بہتات سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
4۔ عمارت تعمیر کرتے وقت تو سیعی نقطہ نظر سے اتنی گنجائش ضرور رکھیں جو کہ آئندہ برسوں میںآپ کی سہولیت مہیا کر سکے۔
5۔ جانوروں کی بہتر افزائش اور بہتر نشونما کیلئے جانوروں کا صحت مند ہونا بہت ضروری ہے۔
6۔ جانوروں کی رہائش کی عمارت کی اقسام مندرجہ ذیل ہیں۔
 
٭ ایسی عمارت جن میں جانوروں کو کھلا رکھا جاسکتا ہو۔ اس قسم میں جانوروں کی کھلا رکھا جاتا ہے اور وہ سارا دن اپنی مرضی سے باڑ ے میں گھومتے رہتے ہیں۔ ، دھوپ اور بارش وغیرہ سے بچاﺅ کے لیے جانوروں کو باڑے کے ایک جانب شیڈ مہیا کا جاتا ہے ۔ دودھ دوہنے کے لیے ان جانوروں کو ملحقہ جگہ پر باندھا جاتا ہے جہاں انہیں ونڈا مہیا کیا جاتا ہے جبکہ گھاس اور بھوسہ وغیرہ میں ہی ڈالا جاتا ہے۔
 
٭ ایسی عمارت جن میں جانوروں کو باندھ کر رکھا جائے۔ اس قسم کی عمارت میں جانور کو باندھ کر رکھا جاتا ہے لیکن کبھی کبھار رورزش یا چرائی کے لے باہر لے جایا جاتا ہے۔ اس قسم کی عمارت میں جانوروں کی پیدا واری صلاحیت بہتر طریقے سے اجا گر ہو تی ہے کیو نکہ ہر جا نور کو اس کی ضرو رت کے مطابق خو راک میسر ہو تی ہے جبکہ پہلی والی قسم جن میں جانوروں کو کھلا رکھا جا تا ہے طا قتو ر اور کمزور جا نوروں کو الگ الگ رکھیں تا کہ ان کی پید اوار پر منفی اثرات مر تب نہ ہوں ۔
 
ایک گا ئے /بھینس کے لئے 40مر بع فٹ چھت ہو ئی اور اس سے د و گنی کھلی جگہ درکا ر ہو تی ہے۔گا ئے بھینسوں کے لئے شیڈ کی تعمیر دو طرح سے کی جا سکتی ہے۔
(1)ایسے شیڈ جس میں جا نوروں کے منہ مخالف سمت میں ہوں ۔
(2)ایسے شیڈ جن میں جا نوروں کے منہ آمنے سامنے ہوں ۔ڈیری شیڈ میں ایک گا ئے کے لئے3.5فٹ چو ڑی اور 6فٹ لمبی جگہ درکا ر ہوتی ہے جبکہ بھینس کے لئے چوڑائی 3.5فٹ کی بجائے 4فٹ بہتر ہوتی ہے ۔جانو روں کے سامنے دو فٹ چو ڑی کھر لی بنائی جائے جس کے سامنے والی دیو ار ایک فٹ اور بچھلی دیوار 3.5فٹ او نچی ہو ۔کھر لی کی طر ف خو راک ڈالنے کے لئے تین فٹ کا راستہ اور درمیان میں چھ فٹ چو ڑا راستہ موزوں رہتا ہے
۔جا نوروں کی پشت کی جانب 8انچ چو ڑی اور صرف ڈیڑھ سے دو انچ گہر ی نالی اس طرح بنائی جا ئے کہ جا نوروں کے پا ﺅں کو نقصان نہ پہنچے ۔ڈیری شیڈ کی دیو اریں سیمنٹ سے پلستر ہو نی چا ہئیں ۔فرش پر گہر ی گہر ی لکیریں ڈال دینی چا ہئیں تا کہ جا نو ر پھسل نہ سکے ۔ڈیری شیڈ کی دیو اروں کی کم از کم او نچا ئی پا نچ فٹ ہو نی چا ہیئے۔جا نو روں کے پیچھے بنائی گئی نا لی شیڈ کے با ہر کسی گٹر سے منسلک کریں تا کہ گو بر ،پیشاب وغیرہ اس میں جمع ہو ۔کھیتوں کو پانی لگا تے وقت پانی اس گٹر میں سے گزاریں تا کہ اس میں مو جو د مواد بطور کھاد کھیتوں کی زر خیزی کے لئے استعمال ہو۔
Post Credit 
Imran Shahzad
 
https://web.facebook.com/Imran.Shahzad001

 

883 Views

Comments