بچہ پیدا کرنے کے لیے نر اور مادہ کے کروموسوم کا ملاپ ضروری ہوتا ہے جن کے ملنے سے بیضہ یا انڈہ بنتا ہے۔
اب اگر آپ ساہیوال سے فریزین کراس کرواٸیں تو دوغلی نسل ملتی ہے خالص فریزین یا خالص ساہیوال نہیں۔
اگر آپ ایک عام گاۓ سے اپنی پسند کی خالص نسل لینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی میں جس نسل کا بچہ حاصل کرنا ہو اسکے خالص نر اور خالص مادہ کے تولیدی مادہ کا ملاپ لیبارٹری میں کروایا جاتا ہے جہاں مصنوعی ماحول میں انڈہ یا بیضہ تیار کر لیا جاتا ہے۔
پھر جس مادہ سے بچہ لینا ہو ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ بچہ اس کے پیٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے اب جہاں وہ قدرتی ماحول میں پورا بچہ بن جاتا ہے اور گاٸے اپنے وقت پر بچہ دے دیتی ہے۔
اس پیدا ہونے والے بچے میں اس گاٸے کی نسل کا ایک فیصد بھی نہیں ہوگا بلکہ بچہ اس خالص نسل کا ہوگا جس کا ایمبریو لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہوگا۔
یعنی کہ خالص ساہیوال کی نسل سے خالص فریزیٸن یا بھاگناڑی سے خالص گِر نسل کا بچہ۔ ہے ناں حیران کن چیز؟
باہر ملکوں میں یہ ٹیکنالوجی نہ ٹھہرنے والے جانوروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے لیکن ہمیں چونکہ فریزین نسل ہی چاہیے یا برہمن بھلے ہماری علاقاٸی نسلوں کا بیڑا غرق ہو جاٸے یا وہ بلکل ناپید ہو جاٸیں اسلیے ہم ہر جانور پر اسکا استعمال کر سکتے ہیں۔
بھاٸیو ان لوگوں نے محنت کی اپنی نسلوں کی حفاظت کی آج ان کی نسلیں ساری دنیا میں پھیلی ہوٸی ہیں۔
جبکہ ہم نے بجاٸے اپنی نسلوں کو بہتر بنانے نقالی کے شوق میں اپنی نسلوں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کر دی اللہ ہمیں معاف فرماۓ۔

image
  • Like