برسیم موسم سرما کا ایک نہایت ہی اہم اور مقوی چارہ ہے۔ زیادہ تر اس کا تازہ حالت میں سبز چارہ جانورں کو کھلایا جاتا ہے۔ اگرچارہ فا لتوہو تو اس کا خشک چارہ (Hay) بھی بہت عمدہ بنتا ہے۔ برسیم کے سبز چارے کو گڑھوں میں بھی محفوظ کر لیا جاتاہے۔ جسے سائیلج (Silage) یا خمیرہ چارہ کہتے ہیں اور پھر چارے کی شدید کمی والے دنوں میں خشک چارہ اور سا ئیلج جانورں کو کھلایا جاسکتا ہے، بہر حال سائیلج زیادہ تر سردیوں میں جانورں کو کھلایاجاتاہے۔ اس کی اعلیٰ خصوصیات کی بنا پر اسے تمام چاروں کا بادشاہ بھی تسلیم کرلیا گیا ہے۔ عام طورپر اسے اکیلا ہی کاشت کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض اوقات اس کو سرسوں اور جئی کے ساتھ ملاکر بھی کاشت کیا جاتا ہے۔ یہ ایک پھلی دار چارہ ہے اور اس کی جڑوں کی گانٹھوں میں ہوا سے نا ئٹروجن حاصل کرکے پودے کے استعمال میں لانے والے جراثیم کثیر تعدادمیں موجود ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برسیم کاشت کرنے سے زمین کی زرخیزی بڑھ جاتی ہے۔ محکمانہ سفارشات اور دیگر زرعی عوامل کو بروئے کار لاکر اس سے50 ٹن فی ایکٹر تک چارہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس میں لحمیات ، کیلشیم اور حیاتین کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کا چارہ کھلانے سے دودھیل جانورں کی دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔

آب و ہوا

برسیم کو ایسی معتدل آب وہوا چاہیے جس میں نہ زیادہ گرمی ہو اور نہ ہی زیادہ سردی۔ اس فصل نے کسی حد تک گرم آب وہوا سے مطابقت پیدا کرلی ہے لیکن18 درجہ فارن ہائیٹ سے کم اس کا پودا زندہ نہیں رہ سکتا۔

زمین اور اس کی تیاری

برسیم کی فصل کیلئے بھاری اور بھاری میرا زمین نہایت ہی موزوں ہوتی ہے۔ البتہ یہ زمین میں 4.06 فیصد تک کلر کی مقدار برداشت کر سکتی ہے۔ زمین میں 3 تا4 مرتبہ ہل چلاکر سہاگہ دیں تاکہ زمین ہموار اور بھر بھری ہوجائے۔ زمین کا ہموار ہونا بہت ضروری ہے ور نہ نشیبی جگہوں پر پانی کے کھڑا رہنے اور اُونچی جگہوں پر پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے فصل کا اُگاﺅ متاثر ہوگا اورنتیجتاً پیداوار میں کمی آئے گی۔

وقت کاشت وموزوں اقسام

زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے بیج کی اچھی قسم کا انتخاب اور فصل کا صحیح وقت پر کاشت کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا مختلف صوبوں کیلئے وقت کاشت اور موزوں اقسام درج ذیل ہیں:

صوبہوقت کاشتموزوں اقسامپنجابوسط ستمبر تا وسط اکتوبراگیتی برسیم، پچھیتی برسیم، انمول، سپر برسیم، لیٹ فیصل آبادسندھوسط ستمبر تا وسط اکتوبراگیتی برسیم، پچھیتی برسیم، انمول، سندھی، سپر برسیم، لیٹ فیصل آبادخیبر پختونخواہوسط ستمبر تا وسط اکتوبرپشاوری، پچھیتی، انمول، سپر برسیم، لیٹ فیصل آبادبلوچستانوسط ستمبر تا وسط اکتوبرپشاوری، اگیتی، پچھیتی ، انمول، سپر برسیم

شر ح بیج

شرح بیج کا انحصار زمین کی قسم، بیج کی قوت روئیدگی اور طریقہ کاشت پر ہوتا ہے۔ لہٰذا بیج ہمیشہ تندرست ، معیاری اور جڑی بوٹیوں سے پاک استعمال کرنا چاہیے۔ 6تا8کلوگرام بیج فی ایکٹر کے حساب سے ڈالیں۔ اگر بیج میں کاسنی کے بیج کی ملاوٹ ہو تو برسیم کے بیج کو 5 فیصد نمک کے محلول میں بھگودیں، کاسنی کا بیج پانی کی سطح پر تیرنے لگے گا جس کو آسانی سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔

طریقہ کاشت

صحیح طریقہ سے تیار کیے گئے ہموار کھیت کے چھوٹے چھوٹے کیارے بنا کران کو پانی سے بھر لیں اور جب پانی کھیت میںمکمل طور پر کھٹرا ہوجائے تو برسیم کے بیج کا چھٹہ کریں۔ بہتر اور یکساں اُگاﺅ کیلئے ایک دفعہ چھٹہ لمبائی کے رُخ اور دوسری دفعہ چوڑائی کے رُخ دیں۔ شام کے وقت کاشت کرنے سے برسیم کی فصل کا اُگاﺅ اچھا ہوتا ہے۔ اگر برسیم بیج حاصل کرنے کیلئے کاشت کرنا ہو تو تروتر میں ایک ایک فٹ کے فاصلے پر لائنوں میں ڈرل سے کاشت کریں۔

کھادوں کا استعمال

درمیانی زمینوں کیلئے گوبر کی گلی سڑی کھاد 5 تا6 ٹرالی فی ایکڑبیجائی سے ایک ماہ قبل کھیت میںیکساں بکھیر کرزمین میں اچھی طرح ملادیں۔ گوبر کی کھاد میسر نہ ہو تودو بوری ڈی اے پی فی ایکڑبوقت بوائی ڈالیں۔ یا 4بوریSSP+ایک بوری یوریا فی ایکڑ یا ایک بوری نائٹروفاس+3بوری SSPڈالیں۔

آبپاشی

آبپاشی کا انحصار موسمی حالات پر ہوتا ہے برسیم کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کیلئے 10 تا15 آبپاشیاں درکار ہوتی ہیں۔ اگر بوائی بذریعہ چھٹہ کی گئی ہو تو پہلے دو پانی سات دن کے وقفہ سے دینے چاہیں تاکہ اُگاﺅ اچھا ہو سکے اس کے بعد حسب ضرورت پانی دیں۔ شدید کورے اور سخت سردی کے دنوں میں پانی ہر ہفتے لگانا چاہیے بیج حاصل کرنے کیلئے وتر میں ڈرل سے کاشت کردہ فصل کو پہلا پانی بجائی کے تین ہفتے بعد دینا چاہیے۔

برسیم کا ٹیکہ

جس کھیت میں برسیم کی بوائی پہلی دفعہ کی جارہی ہو ، اس کھیت میں سابقہ برسیم والے کھیت سے 5 من جراثیم آلودہ مٹی لا کر ڈالنی چاہیے۔اس کے علاوہ قومی زرعی تحقیقاتی مرکز (BNF) یا شعبہ بیکٹریالوجی، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ، فیصل آباد سے برسیم کے بیج کا ٹیکہ حاصل کرکے اسے محکمانہ سفارشات کے مطابق زمین میں ڈالیں اس سے پیداواری نتائج حوصلہ آفزا ہوںگے۔

مخلوط کاشت

برسیم کے ساتھ اگر جئی ملاکر کاشت کی جائے تو چارے کی پہلی کٹائی کی پیداوار اور غذائی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور برسیم کی بیماری (جڑ کی سٹرن) کا حملہ بھی بہت کم ہوتا ہے۔ برسیم کے ساتھ سرسوں یا توریا بھی ملا کر کاشت کیا جاسکتا ہے۔ جئی کے ساتھ مخلوط کاشت کی صورت میں تیار کھیت میں جئی کا بیج بحساب 14 تا 16 کلوگرام فی ایکڑ بکھیر کر ہلکا سہاگہ دیں تاکہ بیج مٹی میں مل جائے اور بعد میں کیارے بناکر پانی کیاروں میںکھڑاکرکے برسیم کا چھٹہ بحساب 8 کلوگرام فی ایکڑ دیں۔

نقصان دہ کیڑے، بیماریاں اور ان کا انسداد

چارے والی فصل پر زہر پاشی نہیںکرنی چاہیے۔ خوش قسمتی سے یہ پودا جتنامفید ہے اُتنا ہی یہ نقصان رساں کیڑوں اور بیماریوں سے محفوظ ہے ورنہ اس کے نرم و نازک پتوں اور شاخوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جس طرح یہ تمام جانورں کا مرغوب چارہ ہے اسی طرح کیڑے اور بیماریاں بھی اس پر کثرت سے حملہ کرتے ہوںگے۔ عام مشاہدہ میں آیا ہے کہ جب برسیم کی کاشت زیادہ نمکین اور سخت زمین یا کلر والی زمین میں کی گئی ہو اور شروع میں پانی کی قلت بھی ہو تو برسیم کی اُوپر والی شاخیں مڑنے لگتی ہیں۔ اس کے بعد جب موسم قدرے ٹھنڈا ہوجاتا ہے تو فصل خوب بڑھنے لگتی ہے۔ البتہ لشکری سنڈی کے حملے کی صورت میں سیٹوارڈ بحساب 125 تا140 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کرنے سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

بیماریاں اور ان کا علاج

جڑ کا کھیڑا یا گلاو

(Barseem Root Rot) یہ بیماری ایک پھپھوند (Rhizoctonia solani) سے لگتی ہے۔ اس بیماری کے حملہ کے بعد اچانک ہی پودا مرجھا جاتا ہے۔ اس بیماری سے متاثرہ پودے آسانی سے کھینچنے پر نکالے جا سکتے ہیں۔ متاثرہ پودوں کی جڑ کی چھال گلی ہوئی اور اتری ہوئی نظر آتی ہے۔ فصل کو بیماری سے بچانے کیلئے جس کھیت میں پچھلے سال گلاو¿ کی بیماری لگی ہو تین سے چار سال وہاں برسیم کاشت نہ کریں تو بہت حد تک بیماری کم ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری دیسی اقسام کی بجائے مصری بیج (مسقاوی) پر زیادہ حملہ آور ہوتی ہے۔ بیج کو کربینڈازم بحساب2.5گرام فی کلو بیج لگا کر کاشت کریں۔

تنے کا گلاؤ (Stem Rot )

یہ بیماری ایک پھپھوند(Phytophthora megaspora) سے لگتی ہے۔ اس بیماری کے حملہ کی صورت میں پودے کے تنے کے نچلے حصہ پر دھنسے ہوئے دھبے بن جاتے ہیں۔ اس متاثرہ جگہ سے تنا گل جاتا ہے اور سیاہ رنگ کا ہو جاتا ہے۔ پودے مرجھا کر سوکھ جاتے ہیں۔ فصل کو بیماری سے بچانے کیلئے کھیتوں کو ہموار رکھیں تا کہ نشیبی جگہوں پرپانی کھڑا ہونے نہ پائے۔ پانی زیادہ لگانے سے اجتناب کریں۔ جس کھیت میں یہ بیماری پائی جائے اس میں کٹائی کے بعد مقامی توسیع عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر استعمال کریں اور متاثرہ کھیت میں تین تا چار سال برسیم کاشت کرنے سے اجتناب کریں۔

برسیم کا سڑنا (Barseem White Mould)

یہ بیماری ایک پھپھوند(Sclerotinia trifoliorum) سے لگتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے سفید روئی کے گالوں کی طرح کی پھپھوند زمین اور پودوں پر نظر آتی ہے۔ جس سے پودے گلنا شروع ہو جاتے ہیں اور آخر کار مرجھا جاتے ہیں۔ یہ بیماری کھیت میں ٹکڑیوں کی صورت میں نظر آتی ہے۔ اس بیماری کا حملہ عموماً جنوری، فروری میں دیکھا گیا ہے۔علاج کی خاطر زمین کی تیاری کے وقت گہرا ہل چلایا جائے۔ زمین کو ہموار رکھا جائے اور زیادہ پانی لگانے سے اجتناب کیا جائے۔ فصل کی کٹائی کے بعد مقامی توسیعی عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر کا سپرے کریں۔

انتھرا کنوز (Anthracnose)

یہ بیماری ایک پھپھوند(Collectotrichum Trifoli) سے لگتی ہے۔ اس بیماری کے حملہ کی صورت میں پتوں اور تنوں پر گہرے بھورے بیضوی شکل کے دھبے بنتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں تنے گل جاتے ہیں اور پودے مرجھا جاتے ہیں۔ فصل کی کٹائی کے بعد مقامی توسیعی عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر کا سپرے کریں۔

کٹائی

برسیم کی فصل چونکہ باربار پھوٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور 5 تا6 کٹائیاںدیتی ہے لہٰذا یہ جاننا اشد ضروری ہے کہ اسے کتنی اُونچائی سے کاٹا جائے مختلف تجربات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ برسیم کی کٹائی تقریباً زمین سے ڈیڑھ یا دو اِنچ اُوپر رکھ کرکرنی چاہیے، اس سے بہت سارے شگوفے دوبار پھوٹتے ہیں۔ کٹائی کے درمیانی وقفہ کا مجموعی پیداوار پر اثر پڑتا ہے لہٰذا ہر کٹائی کا درمیانی وقفہ تقریباًایک سے ڈیڑھ ماہ ہونا چاہیے۔

بیج والی فصل کی کٹائی اور گہائی

جب فصل پک کر تیار ہوجائے تو کٹائی میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ بیج کیلئے چارے کی کٹائی 20 مارچ کے بعد روک دینی چاہیے۔ فصل کی کٹائی صبح کے وقت کرنی چاہیے۔ تاکہ بیج والی ڈوڈی ٹوٹ کر زمین پر نہ گرے اور بیج کا نقصان نہ ہو۔ فصل کو کٹائی کے بعد چھوٹے چھوٹے بنڈلوں میں باندھ لیں اور مکمل خشک ہونے پر ٹریکٹر یا تھریشرسے اِس کی گہائی کر لیں۔

بیج کو سٹور کرنا

برسیم کے بیج کی اچھی طرح صفائی کرکے پٹ سن کی بوریوں میں ڈال لیں۔ پلاسٹک کے تھیلوں میں بیج ہر گز نہ ڈالیں کیونکہ ان میں نمی پیدا ہونے کی وجہ سے بیج کو پھپھوند ی کی بیماری لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

پیداوار

برسیم کی سبز چارے کی مجموعی پیداوار 35 تا40 ٹن فی ایکڑ ہے لیکن اگر تمام زرعی عوامل اور محکمانہ سفارشات پر پُوری طرح عمل کیا جائے تو 50 ٹن فی ایکڑ تک سبزچارہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

غذائیت

برسیم کا چارہ غذائیت کے لحاظ بہت اعلیٰ کوالٹی کا ہوتا ہے۔ جوکہ درج ذیل غذائی گوشوارہ سے عیاں ہے۔

خشک مادہ 15.5 ریشہ دار اجزا 20.8 لحمیات 19.6 نمکیات 15.2 چکنائی 1.9 غیر نائٹروجن مرکبات 42.5
#BerseemClover

image
  • Like