بیٹی کا هونا ضروری هے _
.
چند دن پہلے ڈیڑهہ سالہ نواسہ صاحب کا فون آیا _ابو کہنے کی کوشش میں ,, آپهو _ آپهو ,, کہہ رها تها _ اُسکے بلانے پر اگلی صبح میں بیٹیوں کے گاؤں میں تها _
گیراج میں گاڑی لگائی _چهوٹی بیٹی بیمار تهی وه آ کر ملی اور واپس کمرے میں جا کر لیٹ گئی _ بڑی والی نے میرا کنٹرول سنبهال لیا _
میری چارپائی پر تکیئے رکهہ کر صاحبزادی نے ساتهہ ٹیبل لگا دیا _ گاڑی سے گلاس اور پانی نکال کر میز پر رکها _ نمک سے گلاس دهویا اور بهر کر میرے هاتهہ میں دیا _
موبائل , ٹیب, چارجر , سگریٹ گاڑی سے نکالے _ موبائل بچوں سے بچا کر فرج کے اُوپر رکهہ کر چارجنگ پر لگایا اور ٹیب میز پر رکهہ دی _
دس منٹ بعد کهانا لے آئی _ میں کهانے لگ گیا اور وه پاس بیٹهہ گئی _ تهوڑا حیران هوا کہ توے کی صرف ایک روٹی _ ؟ بهوک بہت تهی لیکن دوسری روٹی مانگنا بهی مشکل تها _
بیٹی دیکهتی رهی _ پہلی روٹی کا آخری لقمہ ابهی هاتهہ میں تها تو وه فورا" هی دوسری گرما گرم روٹی پکا کر لے آئی _ میں نے کہا کہ بیٹی پہلے هی دو روٹیاں لے آتی _وه بولی ابو آپ کے کهاتے کهاتے دوسری روٹی ٹهنڈی هو جانی تهی _
رات گیاره بجے هم لوگ سو گئے , میں ٹی وی لاؤنج میں اور بیٹیاں اپنے اپنے کمرے میں _
اُس دن خوب بارش اور ژالہ باری هو رهی تهی_ سردی لگنے لگ گئی _دیکها تو اُوپر کرنے کیلئے کهیس نا تها _سوچا بیٹی کو اٹها کر کهیس کا کہوں لیکن دل نا مانا کہ سارا دن کام کر کر کہ میری پیاری بیٹی تهکی هوئی هو گی , اب آدهی رات وه کہاں سے کهیس ڈهونڈهتی پهرے گی _ گهٹنے سینے سے لگا کر ٹهٹهرتا هوا سو گیا _
پچلی رات تهوڑی آهٹ محسوس هوئی تو آنکهہ کهل گئی _دیکها تو کهیس هاتهہ میں لئے بیٹی پاس کهڑی مجهے دیکهہ رهی تهی _ میں آنکهیں موندے میسنڑا سا بن کر دیکهتا رها _
اُس نے مجهے سویا سمجهہ کر بہت عقیدت کے ساتهہ میرے دونوں پیر اُٹهائے اور کهیس کا ایک سرا پیروں کے نیچے دبا دیا _ ایک هاتهہ کے ساتهہ هولے سے میرا سر اُوپر کر کہ کهیس کا دوسرا سرا سر کے نیچے کیا _کمر کی طرف آ کر تیسرا سرا کمر کے نیچے کر دیا _ پهر سامنے کی طرف آ کر انگلی کے ساتهہ میرے ناک کے سامنے آیا کهیس هٹایا تا کہ ابو کو سانس لینے میں مسلئہ نا هو _
اِدهر سے فارغ هو کر بیٹی نے پانی کا.گلاس چیک کیا تو وه خالی تها _ پانی والی بوتل کهول کر گلاس بهرا اور ٹیبل پر اِسطرح سے رکها کہ میں لیٹا لیٹا هی گلاس اٹها سکوں _
پرائی جگہ پر نیند کچهہ کم هی آتی هے _ سحری کے وقت بیٹی پهر مجهے چیک کرنے آئی _ پیروں پر سے کهیس اُترا هوا تها _ دوباره میرے پیر تهوڑے اُوپر اٹها کر کهیس صحیح کر گئی _
صبح میں فیصل آباد واپس آتے هوئے راستے میں سوچ رها تها کہ بیٹی اور ماں میں کیا فرق هوتا هے
_
کاپی

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریریں پڑھنے کے لیے وزٹ مائے اکاؤنٹ شکریہ

  • Like