ملک سے نیلی راوی نسل کی بھینسوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے‘ انجینئر سمیع اللہ
پنجاب کی منڈیوں سے ایک مناسب بھینس دویاپونےدو لاکھ روپے میں خریدی جاتی ہے اور9،8ماہ بعد دودھ حاصل کرنے کے بعد سوا ڈیڑھ لاکھ میں قصائیوں کے حوالے کر دی جاتی ہے جو اس کا گوشت کاٹ کر عوام کو کھلا دیتے ہیں‘ بھینسوں کے چند دن کے کٹے اور کٹیوں کی فروخت پر بھی مکمل پابندی ہونی چاہئے ان کا گوشت عوام کو بکرے کے گوشت کے نام پر کھلا دیا جاتا ہے جو صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہوتا، ہر مویشی منڈی میں روزانہ 80سے90فیصدکٹے اور کٹیاں بھینسوں سے علیحدہ کئے جانے کے باعث فوری مر جاتے ہیں،۔بیفلو بریڈرز ایسوسی ایشن پنجاب پاکستان کے سیکرٹری جنرل کا بیان
لاہور( نمائندہ خصوصی) پنجاب سے جو بھینسیں منڈیوں سے خرید کر کراچی چلی جاتی ہیں ان کو کراچی والے 9،8ماہ دودھ لینے کے بعد قصائیوں کو فروخت کر دیتے ہیں اور پھر ان کا گوشت مارکیٹ میں فروخت ہو جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے نیلی راوی بھینس کی نسل میں تیزی کے ساتھ کمی ہو رہی ہے۔ انجینئر سمیع ا للہ نے نیوز اینڈ ویوز کو بتایا کہ کراچی جو ایشیاءکی سب سے بڑی بھینس کالونی ہے اس میں مویشیوں کو ری سائیکل کرنے کا کام نہ بونے کے برابر ھے ۔ بلکہ ان کو دودھ حاصل کرنے کے بعد فروخت کر دیا جاتا ہے۔ سب سے بڑا ظلم یہ کیا جاتا ہے کہ بھینس کے بچہ دینے کے دو وتین دن بعد ہی اس کا کٹا یا کٹی مارکیٹ میں صرف اس لئے فروخت کیا جاتا ہے کہ اس کو بھینس کا دودھ نہ پلانا پڑے۔ یہ بہت بڑا نقصان ہے یہ نوزائیدہ کٹے اور کٹیاں قصائی 3 سے 5 ہزار روپے میں حاصل کر لیتے ہیں اور پھر ان کو ذبح کر کے ان کا گوشت بکرے کے گوشت کے نام پر فروخت کیا جاتا ہے یہ گوشت معیار کے لحاظ سے بھی کھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ مزید برآں اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جو کٹا یا کٹی ذبح کر دی جاتی ہے وہ مویشیوں کی تعداد میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں اس پالیسی کے نتیجے میں مویشیوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جس کا نتیجہ دودھ اور گوشت کی پیداوار میں کمی کی صورت میں نکلا ہے۔ انجینئر سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ آپ کسی دوھیل جانور منڈی میں چلے جائیں تو آپ کو 10 سے 15 کٹے اور کٹیاں مردہ ملیں گے کیونکہ ان کو فوری طور پر بھینس سے الگ کر دیا گیا جس سے وہ موت کا شکار ہو گئے۔ یہ اخلاقی طور پر ایک جرم بھی ہے اور پاکستان کی لائیوسٹاک معیشت کے لئے خطرناک بھی۔ اس عمل کے باعث پاکستان میں نیلی راوی بھینسوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے ۔ یہ صورت حال خطرناک ہے اس لئے حکومت فوری طور پر ان کٹے کٹیوں کی فروخت پر پابندی لگائے اور ان کے پالنےلئےسحولیات مہیا کر نے مدد کرے ۔ بیفلو بریڈرز ایسوسی ایشن پنجاب پاکستان نے فیصل آباد میں کالف ریزنگ سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا ہے۔جس پنجاب کے مختلف علاقوں سے اعلی نسل کے کٹے پالکر BBAPPکےSPU کواور دیگر ملک وقوم خدمت کرنے والے اداروں کو دےگے۔

image