رشید اپنی بھینس کو لے کر بہت پریشان تھا جو بہت بیمار تھی، طرح طرح کے ٹوٹکے آزما رہا تھا مگر بھینس ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی، آخر کار جب سب ٹوٹکے بیکار دکھائی دینے لگے تو رشید نے اپنے علاقے کے جانوروں کے ہسپتال کا رخ کیا اور ایک طویل سفر طے کر کےہسپتال میں موجود ڈنگر ڈاکٹر کے پاس پہنچا، ڈاکٹر کو ساتھ لیا اور گاؤں واپس آیا.

ڈاکٹر نے بھینس کا معائنہ کر کے رشید کو دوایاں دیں اور تلقین کی کہ دوائیاں صحیح وقت پرپر بھینس کو کھلاے،چارے اور پانی کا خاص خیال رکھے، ذرا سی بھی غفلت جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، یہ سننا تھا کہ رشید بے حد پریشان ہو گیا، اس نے اپنا سونا کھانا پینا اور دیگر مصروفیات ترک کر کے پوری توجہ بھینس پر مرکوز کر دی، آخر کار آہستہ آہستہ بھینس ٹھیک ہونے لگ گئی، اب رشید بھی مطمئن ہو گیا، دیکھتے ہی دیکھتے بھینس پوری طرح ٹھیک ہو گئی.

مگر یہ کیا! رشید یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ اس کی بھینس پہلے سے کہیں ذیادہ صحت مند دکھائی دینے لگی اور دودھ میں بھی اضافہ ہونے لگا تھا۔ وہ اس تبدیلی کے بارے میں کئی دن سوچتا رہا، پھر اس پر یہ راز افشاں ہوا کہ ٹھیک طریقے، محنت، لگن اور سچائی سے دیکھ بال کرنے سے ہی یہ سب کچھ ممکن ہوا ہے۔

رشید صبح سویرے اٹھتا اپنے مویشوں کو چارہ ڈالتا، انہیں نہلاتا، پانی پلاتا اور ان کی صحت کا باقاعدگی سے خیال رکھتا تھا. اگر مچھر ہوتے تو سوکھا گوبر جلا کر دھونی دیتا۔ رشید ہر وقت اپنے ذہن میں یہ بات رکھتا کہ اگر وہ اپنے مویشوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرے گا تو وہ اسے اچھی پیداوار دیں گے۔

ایک دن رشید اپنے کسی دوست سے ملنے شہر گیا، وہاں اس نے دیکھا کہ اس کا دوست بہت پریشان تھا، وجہ دریافت کی تو پتا چلا کہ اس کا دوست جس گاڑی میں روزانہ آفیس جاتا تھا وہ بہت ذیادہ خراب رہنے لگی ہے، جس کی وجہ سے وہ پریشانی میں مبتلا ہے۔ رشید نے بھی اسے اپنی پریشانی کے بارے میں بتایا کہ کیسے وہ اپنی بھینس کو لے کر پریشان تھا اور کس طرح اس کی بھینس ٹھیک ہو گئی اور اب حیرت انگیز پیداوار فراہم کر رہی ہے، اس نے یہ بھی بتایا کہ اس نے کس طرح سے بیماری کی حالت میں اپنی بھینس کی سیوا کی تھی۔

'پڑھا لکھا' دوست رشید کی باتوں کا مذاق اڑانے لگا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ یہ میں اپنی گاڑی کی خرابی کی وجہ سے ہونے والی پریشانی کا تذکرہ کر رہا ہوں اور یہ ان پڑھ گنوار بیچ میں بھینس کو گھسا بیٹھا، بھلا گاڑی کا بھینس سے کیا تعلق؟

خیر رشید اس سے مل کر واپس اپنے گاؤں چلا گیا، دوسرے دن رشید کا دوست گاڑی لینے مکینک کے پاس گیا تو اس نے اسے مشورہ دیا کہ گاڑی کے تیل پانی کا خیال رکھا کرے اور ایسا نہ کرنے کی وجہ سے ہی اس کی گاڑی خراب ہو جاتی ہے۔ وہ گاڑی لیکر واپس آ گیا.

رات کو جب وہ اپنے بیڈ پر آرام سے لیٹا ہوا تھا اسے پھر رشید کی باتیں یاد آئیں، وہ زور زور سے ہنسے لگا تو اس کی بیوی نے پوچھا کہ آپ کیوں ہنس رہے ہو تو انہوں نے اپنے ان پڑھ گنوار دیہاتی دوست کا قصہ سنایا اور پھر زوز زور سے ہنسنے لگا.

بیوی نے تھوڑی دیر بعد دوسرا سوال کیا کہ گاڑی میں خرابی کیا تھی، مکینک کیا کہتا ہے؟ تو اس نے مکینک کا مشورہ بتایا، بیوی ہنسنے لگی۔ اس نے حیرت سے پوچھا اب تم کیوں ہنس رہی ہو؟

بیوی نے جواب دیا کہ تم اپنے جاہل دوست کی باتوں پر غور کرو، مکینک کے پاس جانے اور اس کا مشورہ سننے سے پہلے ہی تمہارا دوست تمہیں یہ مشورہ دے گیا تھا۔ جسے تم جاہل کہہ رہے ہو وہ تم سے بہت ذیادہ ذہین ہے۔

دوست نے رشید کا مشورہ پلے باندھ لیا، اب وہ زوزانہ صبح آفس جانے سے پہلے اپنی گاڑی کا تیل پانی چیک کرتا، کمی کی صورت میں اسے پورا کرتا، ٹائیرز کی ہوا چیک کرواتا، اب اسے بار بار کی پریشانی نہیں ہوتی تھی، کیوں کہ گاڑی اب خراب نہیں ہوتی تھی۔

image