کراچی کے ڈیری فارمرز کا اصل مسئلہ اور مصنوعی دودھ
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
بنیادی بات کہ دودھ تین قسم کا ہے ۔ ۔۔قدرتی یا اصلی دودھ، مصنوعی یا جعلی دودھ اور ملاوٹ شدہ دودھ۔ مصنوعی دودھ کا خاتمہ اور اصلی دودھ میں ملاوٹ کی روک تھام کے ساتھ ساتھ قدرتی دودھ کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس بات کا یقین کرنا بھی ضروری ہے کہ اصلی دودھ گائے اور بھینس سے حاصل ہوتا ہے جو کہ قدرت کا کرشمہ ہے اور یہی دودھ مارکیٹ میں عام طور پر بکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھیڑ، بکری، اونٹ وغیرہ کا دودھ بھی کچھ علاقوں میں پیا جاتا ہے۔ مصنوعی اور جعلی دودھ کے برعکس اس قدرتی اور اصلی دودھ کے مسلسل حصول کے لئے ضروری ہے کہ گائے اور بھینس کو زندہ رکھا جائے اور انہیں اس قابل رہنے دیا جائے کہ یہ دودھ دیتی رہیں۔ اس گائے اور بھینس کو زندہ رکھنے کے لئے لازمی ہے کہُ اس طبقے کو زندہ رکھا جائے جو اس کو پالتا ہے اور اس سے دودھ حاصل کر کے مارکیٹ کو مہیا کرتا ہے۔ اب اس طبقے یعنی فارمر کو زندہ رکھنے کے لئے اہم ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ اس سسٹم سے کماتا رہے۔
گائے بھینس سانس والی چیز ہے کوئی مشین نہیں کہ بٹن دبا دینے سے ضرورت کے مطابق ایک خاص معیار کا دودھ حاصل کر لیا جائے گا۔ ایک جاندار کی طرح اس کی بھی ضروریات ہیں اور ان ضروریات کو پورا کر کے ہی اسے زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ جانور کا حصول ، ڈیری فارمنگ کے لئے پہلا مرحلہ، منڈیوں کے چکر اور تعلقات کے استعمال سے ممکن ہوتا ہے۔ اس کی قیمت پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں کہ علاقے، حالات، مہینے، موسم اور جانور کی پیداواری صلاحیت کے مطابق بدلتی ہے اور فارمر مارکیٹ کے مطابق اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔ اس کی ٹرانسپورٹ کے لئے گاڑی استعمال ہوتی ہے اور اس گاڑی میں ڈیزل ڈلتا ہے اور ڈیزل کی قیمت آج سے دس سال پہلے کیا تھی اور آج کیا ہے ،اس پر بات کرنے کی میرا خیال زیادہ ضرورت نہیں۔جانور لانے سے پہلے شیڈ یا باڑے کی تعمیر ۔۔ سیمنٹ، بجری، مٹی، ریت، گارڈر، بانس، کانے ، اینٹ وغیرہ کی قیمتیں آج کیا ہیں ، کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
جانور چارہ کھاتا ہے اور یہ چارہ زمیندار یا ڈیری فارمر خود اگاتا ہے۔ اگانے کے لئے بیج، کھاد، ڈیزل ،بجلی اور مزدوری سمیت دیگر اخراجات برداشت کرتا ہے اور پھر منڈی میں لاکر بیچ دیتا ہے، اس دوران کسی بھی خرچے پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں۔ ڈیری فارمر جو چارہ منڈی سے خریدتا ہے، مارکیٹ کے مطابق اس کے پیسے دیتا ہے ،، کبھی کم اور کبھی زیادہ۔ فارمر جانور کے لئے کھل ، چوکر، ونڈے کا انتظام کرتا ہے اور منڈی کے ریٹ کے مطابق رقم ادا کرتا ہے۔ جانور جو کہ بیماربھی ہوتا ہے اور اس کا علاج معالجہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے محکمہ بھی موجود ہے مگر بدقسمتی سے خصوصاََ سندھ میں فارمر اس کے بھی منہ مانگے دام بھرتا ہے۔ بجلی ہے، پانی ہے، باڑے کی توڑ پھوڑ ہے، لیبر ہے، گاڑیاں ہیں، ان سب کے اخراجات فارمر اپنی جیب سے دیتا ہے اور اس کی قیمت میں اس کی مرضی نہیں بلکہ جسے ادا کر رہا ہےُ اس کی مرضی شامل ہوتی ہے۔
افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ اتنی محنت اور اتنے اخراجات برداشت کرنے کے بعد جب فارمراپنا دودھ بیچنے مارکیٹ میں نکلتا ہے تو حکومت کو صارف کے حقوق یادآ جاتے ہیں اور اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ دودھ کو حکومت کی طے کردہ قیمت پر فروخت کرے۔ اس سے بڑی زیادتی کہ ریٹ کو مقرر کرنے میں حقائق کو مدنظر نہیں رکھا جاتا اور فارمر کی رائے کو بھی شامل نہیں کیا جاتا۔ فارمرز کے حقوق کسی کو یاد نہیں رہتے اوریہی مسئلہ سندھ اور خصوصاََ کراچی کے ڈیری فارمرز کا بھی ہے۔ دودھ کے ریٹ میں اضافے کی ڈیمانڈ ان کی جائز ہے اور ان حالات میں جب ہارمونز کے استعمال پر پابندی لگنے سے پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ،ان مطالبات کو تقویت ملتی ہے۔
اصل میں ایک مافیا ہے جو کہ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کی ڈیری فارمنگ کے پیچھے ہے۔ ڈیویلپمنٹ کے نام پر جہاں slow poisoningکے اصول پر ہمارے لائیوسٹاک کو تباہ کرتے رہے وہاں دودھ کے ریٹ پر بھی کنٹرول رکھا کہ فارمر بھی ساتھ ساتھ تباہ ہوتا رہے۔ مقصد مافیا کا پاکستان سے قدرتی دودھ کو ختم کرکے اس قوم کو جعلی دودھ پر لگا نا ہے تاکہ جعلی دودھ کا کاروبار بڑھتا رہے۔ مصنوعی دودھ جو طرح طرح کی شکلوں میں مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے اس پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں مگر قدرتی دودھ جو فارمر دن رات کی محنت سے مارکیٹ میں لے کر آتا ہے، اسے اس کی پیداواری لاگت بھی لینے نہیں دی جاتی۔
اگر حکومت یہ چاہتی ہے کہ لوگ قدرتی دودھ پئیں تو تمام صوبوں کو دودھ کی قیمت مقرر کرنے والے عمل سے پیچھے ہٹ کر دودھ کو ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے اصول پر فروخت کرنے کی اجازت دینی چاہئے تاکہ جس کے پاس جس کوالٹی کا دودھ ہو وہ اس کی قیمت وصول کر لے۔ ہاں اگر قیمت کو کنٹرول کرنا ہی ہے تو اس میں فارمر کی مشاورت سے پیداواری لاگت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مقرر کیا جانا چاہئے تاکہ فارمر کچھ کما سکے اور اپنا سسٹم بند کرنے پر مجبور نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ دودھ پیک کرنے والوں پر بھی یہ لازم قرار دیا جانا چاہئے کہ وہ اپنا source بتائیں کہ جتنا دودھ پیک کیا یا پراسیس کیا ، وہ کہاں سے آیا۔ ہاں اگر مصنوعی اور جعلی دودھ پر ہی اس قوم کو لگانا ہے تو پھر فارمر کے استحصال کی پالیسی ٹھیک ہے۔

image