جانوروں میں کرم کشی کا طریقہ اور کرم کش ادویات کا طریقہ

Comments · 850 Views

ایک محتاط اندازے کے مطابق 42 فیصد جانور مختلف قسم کے کرموں کا شکار ہوجاتے ہیں۔کرم جانوروں میں مختلف قسم کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں جس سے جانوروں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔اسی لئے کرموں پر قابو پانا ضروری ہے تاکہ ڈیری فارم کی پیداوار بڑھائی جا سکے۔

جن علاقوں میں میں جانوروں کو باہر چرائی کے کیلے بھیجا جاتا ہے۔ ان جانوروں میں کرم زیادہ پائے جاتے ہیں۔ان جانوروں کی نسبت جن جانوروں کو گھر پر چارہ ڈالا جاتاہے ہے۔اسی طرح جو جانور خشک خورک کھاتے ہیں ان میں کرموں کی مقدار زیادہ ہوسکتی ہے بہ نسبت ان جانوروں کے جو جانور سبز چارہ کھاتے ہیں۔اور اسی طرح  بڑے جانوروں کی نسبت چھوٹے جانوروں میں کرم زیادہ ہوتے ہیں اور یہی ان جانوروں میں بڑھوتری میں  کمی کی بڑی وجہ ہے۔

کرم کا شکار ہونے والے جانوروں کی علامات

  • ڈایییریا اسہال
  • وزن کی کمی
  • مٹی کپڑے کھانا
  • بلوغت میں دیر
  • کمزور اور سست نشوونما
  • دودھ کی پیداوار میں کمی
  • گوشت کی پیدوار میں کمی
  • کمی عمری میں موت واقع ہونا
  • جلد کا پتلا ہونا
  • جلد کا خشک ہونا
  • آنکھوں میں گیڈ آنا
  • گوبر میں بو آنا

کرموں کی اقسام

کرم عام طور پر دو طرح کے ہوتے ہیں 1 اندرونی کرم اور 2 پیرونی کرم

اندرونی کرم

ایک اندازے کے مطابق چھوٹے بچوں میں ایک سال سے کم عمر ی میں 25 سے 30 فیصد اموات اندرونی کرموں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ان کرموں میں گول کرم معدے کے کرم پھپڑوں کے کرم جگر کے کرم اور آنتوں کے کرم شامل ہیں۔

پیٹ اور آنتوں کے کرم

یہ کرم موسم گرما کے آخر اور سردیوں کے شروٰع میں جانوروں پر حملہ اور ہوتے ہیں اور پیٹ اور آنتوں کی دیواروں کے ساتھ چمٹ کر جانور کا خون چوستے ہیں مقامی طور پر لوگ انیں ملپ یا کدودانے کہتے ہیں۔

علامات

جانور میں خون کی کمی ہوجاتی ہے۔ جانور خوراک زیدہ کھاتا ہے مگر کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہیں پیچش لگ جاتے ہیں اورکبھی کبھی جانور کے گوبر میں خون بھی نظر آتا ہے۔جلد خشک اور کھردری ہوجاتی ہے۔